بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

یکم رجب سے کفارے کے روزے شروع کرے، لیکن شعبان کا مہینہ 29 کا ہو تو اس ایک روزے کا کیاحکم ہے؟

سوال

اگر کوئی شخص یکم رجب المرجب سے کفارے کے روزے شروع کرے، لیکن شعبان کا مہینہ 29 کا ہو تو اس ایک روزے کا کیاحکم ہے؟

جواب

 جوشخص کفارے کے روزے کسی بھی اسلامی مہینے کی پہلی تاریخ سے رکھے تو اس پر دو اسلامی مہینے روزے لگاتار رکھنا لازم ہوتے ہیں، لہذا ایسی صورت میں   اگرچہ دونو ں مہینے 29 روز کے ہوں تو   58  روزے  رکھنے سے کفارہ مکمل ہوجاۓ گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(صام شهرين ولو ثمانية وخمسين) بالهلال وإلا فستين يوما.... قال المحقق تحته:وحاصله أنه إذا ابتدأ الصوم في أول الشهر كفاه ‌صوم ‌شهرين ‌تامين، أو ناقصين، وكذا لو كان أحدهما تاما والآخر ناقصا (قوله: وإلا) أي وإن لم يكن صومه في أول الشهر برؤية الهلال بأن غم، أو صام في أثناء شهر فإنه يصوم ستين يوما. وفي كافي الحاكم وإن صام شهرا بالهلال تسعة وعشرين وقد صام قبله خمسة عشر وبعده خمسة عشر يوما أجزأه."

(‌‌كتاب الطلاق،‌‌باب الظهار،باب كفارة الظهار،472/3، ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101403
تاریخ02-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں