بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب چند اقوال کی تحقیق

سوال

کیا یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اقوال ہیں؟ رہنمائی فرمائیں:

1) نرم گفتگو اور بلند آواز سے سلام کرنا بھی عبادت ہے۔

2) جس پر احسان کرو ،  اس کے شر سے بچو۔

جواب

1) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب یہ قول ’’نرم گفتگو اور بلند آواز سے سلام کرنا بھی عبادت ہے‘‘   ہمیں اہل سنت کی کتابوں میں نہیں ملا، البتہ بعض اہل تشیع کی کتابوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطبوں میں ان الفاظ میں مذکور  ہے : ’’نرم گفتگو اور سلام کا عام کرنا عبادت ہے‘‘۔  

"الإمام علي (عليه السلام): إن من العبادة لين الكلام وإفشاء السلام". (ميزان الحكمة(8/ 18).

لہذا جب تک کسی مستند کتاب میں معتبر سند کے ساتھ نہ مل جائے، اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب کرکے بیان نہ کیا جائے۔ 

2) جس کے ساتھ احسان کرو ، اس کے شر سے بچو  ‘‘ اس روایت کے متعلق علامہ سخاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : اس کا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی  حدیث ہونے کا مجھے علم نہیں، لگتا ہے کہ یہ اسلاف میں سے کسی کا قول ہے،  اور اس مقولہ کا تعلق کمینہ آدمی کے ساتھ ہے،  کمینہ آدمی ، احسان کا بدلہ شر سے دیتا ہے۔

المقاصد الحسنة میں ہے:

"حَدِيث: اتَّقِ شَرَّ مَنْ أَحْسَنْتَ إِلَيْهِ، لا أعرفه، ويشبه أن يكون من كلام بعض السلف، وليس على إطلاقه، بل هو محمول على اللئام غير الكرام".

(المقاصد الحسنة للسخاوي:حرف الهمزة (ص:60)، ط.  دار الكتاب العربي - بيروت، الطبعة  الأولى:1405 هـ = 1985م)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101200
تاریخ01-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں