بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیع سلم کی مدت میں تقدیم وتاخیر کا حکم

سوال

بیع سلم میں رب السلم اور مسلم   الیہ نے ایک مدت مقرر کر لیا  ،  رب السلم   نے مسلم الیہ سے کہا کہ یہ راس المال لے لیں اور مجھے تین ماہ بعد مبیع سپرد کر دوں گے، تو کیا مقرر شدہ مدت سے متعاقدین آپس کی رضامندی سے تقدیم و تاخیر کر سکتے ہیں ؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں بیع سلم کی مدت میں رب السلم اور مسلم الیہ کی رضامندی سے تقدیم وتاخیر کرسکتے ہیں ۔

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے :

"وفي اجتهاد الحنفية: إذا حل أجل تسليم المسلم فيه، وانقطع وجود المبيع بحيث يتعذر تسليمه، كان المشتري بالخيار بين أن ينتظر وجوده، أو يفسخ البيع، ويسترد الثمن."

(المطلب الثانی شروط السلم،ج:5،ص:3615،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101045
تاریخ28-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں