بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

محرم میں بچے کی پیدائش پر مبارک باد دینا

سوال

کیامحرم میں مبارک باد دے سکتے ہیں؟ مثلاً کسی کے گھر بیٹا ہو اس کو مبارک باد دینا۔ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں محرم الحرام یا کسی بھی مہینہ میں کسی کو بچے کی ولادت یا کسی اور خوشی کے موقع پر مبارک باد  دینا ،شرعی اعتبار سے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے،محرم الحرام کے مہینہ کو غم کا  مہینہ سمجھنا بے اصل اور ناجائز ہے۔

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"وتستحب كما تقدم التهنئة بالمولود بين الرجال وبين النساء، بأن يقال: ‌بارك ‌الله ‌لك ‌في ‌الموهوب لك، وشكرت الواهب، وبلغ أشده، ورُزقت بِرَّه. ويجيب الوالد والوالدة: بارك الله لكم، وبارك عليكم، وأجزل ثوابكم."

(القسم الأول: العبادات، الباب الثامن: الأضحية والعقيقة، الفصل الثاني: العقيقة وأحكام المولود، المبحث الثاني ـ أحكام المولود،التسمية بما لا يليق إلا بالله، ج: 4 ص: 2754 ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101036
تاریخ28-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں