بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وضو میں شک ہوجاۓ تو طواف کا حکم

سوال

 میں نے اس سال حج کیا،  طواف سے پہلے میں نے اچھے سے وضو  کیا،  لیکن طواف کے بعد مجھے پھر سے شک ہوا لیکن اس بار میں نے وضو  نہیں کیا ، کیوں کے مجھے بہت دیر ہورہی تھی اور بہت تھکن بھی تھی، پھر میں نے سعی کرلی اور واپس کمرے تک  گئی، مگروضو میں  شک   تھا، تو میں نے ایامِ تشریق کے بعد گھر آنے سے پہلے پھر سے نفلی طواف کیا،  تو کیا میرا طواف ہوگیا۔؟اور کیا مجھے دم  دیناہوگا یا نہیں؟

جواب

جب تک وضو ٹوٹ جانے کا  یقین یا ظن غالب نہ ہوجائے اس وقت تک وضو برقرار رہتا ہے؛  لہذا   صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا طواف ہوگیا ، دم لازم نہیں ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"فإن الشك والاحتمال لايوجب الحكم بالنقض، إذ اليقين لايزول بالشك". 

 (‌‌كتاب الطهارة، سنن الوضوء، ج: 1، ص: 148، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101020
تاریخ28-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں