بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ادھار خرید کر نفع میں بیچنا

سوال

میں نے جن کو اپنا گھر فروخت کیا ہے انہوں نے ابھی تک مجھے اصل رقم کا صرف 30% دیا ہے،اور 70% دینا باقی ہے، اس کے باوجود انہوں نے کسی اور سے زیادہ رقم کے عوض میرے گھر کا سودا کر دیا ہے، کیا خریدار کا ایسا کرنا شرعی طور پر جائز ہے؟ اوراس  سے حاصل ہونے والا منافع خریدار پر حلال ہے؟

جواب

ادھار پر گھر خریدنے کے بعد  قیمت کی ادائیگی سے  پہلے خریدار کے لیے آگے نفع کے  ساتھ   بیچنا جائز ہے، اس میں شرعًا کوئی ممانعت نہیں ہے،البتہ اس پر قیمت کی بقیہ رقم ادا کر دینا لازم ہے۔

ہدایہ میں ہے:

"ويجوز بيع العقار قبل القبض عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمه الله."

(كتاب البيوع،‌‌‌‌باب المرابحة والتولية،فصل ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه، ج:3، ص:59، ط:دار احياء التراث العربي بيروت لبنان) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101002
تاریخ28-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں