بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زمین کے مالک پر حج کی فرضیت کا حکم

سوال

جو شخص زمین کا مالک ہو اس پر حج فرض ہے یا نہیں؟

جواب

اگر اس شخص کی ملکیت اتنی زمین ہے کہ اس زمین کا کچھ حصہ یا کل زمین فروخت کرنے کی صورت میں  حج کے اخراجات ادا کرنے کے بعد اتنی زمین یا اتنی رقم  باقی رہتی ہو کہ حج سے واپسی کے بعد  آئندہ  زندگی گزارنے کے لیے وہ زمین یا رقم اس کے اور اس کے اہل وعیال کے معاش کے لیے کافی ہو تو اس پر حج فرض ہے،ورنہ نہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان صاحب ضيعة إن كان له من ‌الضياع ما لو باع مقدار ما يكفي الزاد والراحلة ذاهبا وجائيا ونفقة عياله، وأولاده ويبقى له من الضيعة قدر ما يعيش بغلة الباقي يفترض عليه الحج، وإلا فلا."

(کتاب المناسک،ج1،ص128،ط؛درا الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501100901
تاریخ27-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں