بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

علم سے متعلق ایک حدیث کی تخریج

سوال

کیا یہ حدیث ، احادیث کی کتابوں میں موجود ہے ؟:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس نیت سے علم حاصل کرے کہ اس کے ذریعے علمائے کرام کے ساتھ مقابلہ بازی کرے ،اور جہلاء کے ساتھ بحث مباحثہ کرے ،یا اس کے ذریعے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرے تو اللہ سبحانہ و تعالٰی اسے آگ میں داخل فرمائیں گے۔

جواب

جی ہاں! یہ روایت ، سنن ترمذی اور حدیث کی دیگر کتابوں  میں موجود ہے، سنن ترمذی کی روایت ملاحظہ فرمائیے:

"حدثنا أبو الأشعث أحمد بن المقدام العجلي البصري، قال: حدثنا أمية بن خالد، قال: حدثنا إسحاق بن يحيى بن طلحة قال: حدثني ابن كعب بن مالك، عن أبيه، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من طلب العلم؛ ليجاري به العلماء، أو ليماري به السفهاء، أو يصرف به وجوه الناس إليه .. أدخله الله النار".

(سنن الترمذي:  باب ما جاء فيمن يطلب بعلمه الدنيا (4/ 329) ، الرقم (2654)، ط. دار الغرب الإسلامي - بيروت، سنة النشر: 1998 م)

ترجمہ: ’’ جس شخص نے اس غرض سے علم حاصل کیا کہ اس کے ذریعہ علماء سے مقابلہ کرے ، یا کم عقلوں سے بحث کرے ، یا لوگوں کی تو جہ اپنی طرف مائل کرے اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو آگ میں ڈالیں گے ‘‘۔

فقظ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501100784
تاریخ26-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں