بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تکیے پر پاوں رکھنے اور ٹانگوں میں تکیہ رکھنے کا حکم

سوال

پاؤں تکیہ پر رکھنا چاہیے، ٹانگوں میں تکیہ رکھنا چاہیئے یا نہیں ؟ اسلام میں ممانعت ہے ؟ حدیث کی روشنی میں اصلاح فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر تکیہ اگر ذاتی ہو تو راحت کے لیے اس پر پاوں رکھنا یا اسے ٹانگوں میں رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔البتہ اگر اس سے شہوت پیدا ہوئی ہو تو اس سے اجتناب کیا جائے۔

اور اگر تکیہ عمومی استعمال کا ہے تو اس پر پاوں رکھنا یا اسے ٹانگوں میں رکھنا خلافِ ادب ہے اس لیے کہ عموماً لوگ اسے سر کے نیچے یا ٹیک لگانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:

"المادة (١١٩٢) - (كل يتصرف في ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال. "

( الباب الثالث في بيان المسائل المتعلقة بالحيطان والجيران، الفصل الأول في بيان بعض القواعد المتعلقة بأحكام الأملاك٣ / ٢٠١، ط: دار الجيل)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501100776
تاریخ26-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں