بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرضدار کی دعوت قبول کرنا

سوال

کیا ہم اپنےکسی قرضدار شخص کی دی ہوئی کوئی چیز کھا سکتے ہیں؟

جواب

  اگر قرض دینے والے کو معلوم ہو کہ قرضدار شخص میری دعوت قرض کی وجہ سے کررہا ہے یا اس کا حال معلوم نہ ہو تو اس دعوت کو قبول کرنےسے اجتناب کیاجائے ، البتہ اگر قرض کی وجہ سے نہیں بلکہ دوستی یا رشتہ داری کی وجہ سے دعوت کرتاہے تو اس کے قبول کرنے اور کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

" قال محمد - رحمه الله تعالى - ‌لا ‌بأس ‌بأن ‌يجيب ‌دعوة من كان عليه دين قال شيخ الإسلام هذا جواب الحكم. فأما الأفضل فأن يتورع عن الإجابة إذا علم أنه لأجل الدين أو أشكل عليه الحال ".

(کتاب البیوع ، الباب التاسع عشر في القرض والاستقراض والاستصناع ج: 3 ص: 203 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501100745
تاریخ25-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں