بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا مہر کی رقم برکت والی ہوتی ہے؟

سوال

حق مہر کس کا ہوتا ہے ؟کیا حق مہر لڑکی کا ہوتا ہے ؟ کچھ جگہوں پر یہ مشہور ہے کہ حق مہر کے پیسے برکت والے ہوتے ہیں، کبھی کوئی بیمار ہو تو اس میں سے کچھ پیسے نکال کر علاج کروایا جائے تو صحت ملتی ہے، یا نیا کاروبار شروع کرنا ہو تو اس میں سے کچھ پیسے شامل کیے جائیں تو برکت پڑتی ہے، اس لیے حق مہر ہمیشہ سنبھال کر رکھنا چاہیے، اگر ایسا ہے تو پھر حق مہر لڑکی کا تو نہ ہوا؟

جواب

واضح رہے کہ مہر لڑکی کا حق ہے،شوہر کے ذمہ اس کی ادائیگی واجب ہے،اور مہر پر ملکیت لڑکی کی  ہی ہوتی ہے،وہ اس کو جہاں چاہے استعمال کرے۔

البتہ یہ کہیں سے ثابت نہیں کہ مہر کے پیسے میں برکت ہوتی ہے ،اس کے پیسے سے علاج کروایا جائے تو شفا ملتی ہےوغیرہ یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وروي عن رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وسلم، أنه قال من کشف خمار امرأته ونظر إلیها وجب الصداق دخل بها، أو لم یدخل وهذا نص في الباب."

( کتاب النکاح، فصل و أما بیان مایتاکد به المهر، ج:2، ص:292، ط: دار الكتب العلمية)

المبسوط للسرخسی میں ہے :

"و الدليل عليه أنها تحبس نفسها؛ لاستيفاء المهر، و لاتحبس المبدل إلا ببدل واجب و إن بعد الدخول بها يجب. و لا وجه لإنكاره؛ لأنه منصوص عليه في القرآن."

(كتاب النكاح، باب المهور، ج:5، ص:63، ط: بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501100710
تاریخ25-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں