بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفیسہ نام رکھنے کا حکم

سوال

نفیسہ نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

’’نفیسہ‘‘ لفظ’’نفاست‘‘ سے ماخوذ ہےجو کہ عربی اور اردو دونوں میں یکساں استعمال ہوتا ہے،جس کا معنیٰ خوبی اور صفائی وغیرہ کے آتے ہیں،اور یہ پاکیزگی سے کنایہ ہے،لہذا لفظِ’’نفیسہ‘‘ کا معنیٰ ہے عمدہ،قیمتی،محبوب، معزز ،مرغوب اور پاکیزہ ،لہذا یہ نام رکھنا شرعاً جائزہے، بلکہ صحابیہ رضی اللہ عنہا کا نام ہونے کی وجہ سے باعثِ برکت بھی ہے۔

"تاج العروس"میں ہے:

"وشيء نافس: رفع وصار مرغوبا فيه وكذلك رجل نافس ونفيس، والجمع: نفاس. وأنفس الشيء: صار نفيسا. وهذا أنفس مالي، أي أحبه وأكرمه عندي، وقد أنفس المال إنفاسا. ونفسني فيه: رغبني."

(ص:٥٧٢،ج:١٦،فصل النون مع السين،ط:ودار إحياء التراث)

"فیروز اللغات"میں ہے:

"نفاست:(نَ-فا-ست)(ع-ا-مؤنث)خوبی-صفائی۔۔۔نفیس:(نَ-فِیس)(ع-صف)عمدہ،قیمتی،پاکیزہ۔"

(ص:٦٨٤،ن-ف،ط:فیروز سنز)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501100627
تاریخ24-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں