بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فرض نمازکےآخری دورکعتوں کاحکم

سوال

فرض نماز کی آخر ی دو رکعتوں میں سورتِ فاتحہ کا کیا حکم ہے؟

جواب

فرض نمازکی آخری دورکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھنا فرض یا واجب  تو نہیں ہے، البتہ ان رکعات میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا افضل ہے۔

النتف فی الفتاوی میں ہے:

"وعند الفقهاء القراءة في الركعتين الاوليين فريضة وفي الاخريين هو مخير في ثلاثة اشياء ان شاء قرأ فاتحة الكتاب وان شاء سبح بقدر فاتحة الكتاب وان شاء سكت،وقال ابو حنيفة قراءة فاتحة الكتاب افضل،وقال سفيان الثوري التسبيح افضل."

(كتاب الصلاة،٥٠/١،ط:مؤسسة الرسالة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله ومنها القراءة) أي قراءة آية من القرآن، وهي فرض عملي في جميع ركعات النفل والوتر وفي ركعتين من الفرض."

(كتاب الصلاة،فرائض الصلاة، ٤٤٦/١،ط:سعيد)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501100624
تاریخ24-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں