بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچے کا نوح نام رکھنے کا حکم

سوال

کیا بچے کا"نوح" نام رکھنا جائز ہے؟

جواب

"نوح" کا ایک معنی "سکون تسکین بخشنے والا" ،دوسرا معنی "گریہ اور آہ وزاری کرنے والا"کے آتے ہیں،حضرت نوح علیہ السلام مشہور و معروف پیغمبر گزرے ہیں، لہذا کسی بچے کا نام "نوح" رکھنا نا صرف جائز ہے،بلکہ باعثِ برکت و فضیلت بھی ہے۔

تفسیر الدرالمنثور میں ہے:

"وكان اسم نوح السكن وإنما سمي نوح السكن لأن الناس بعد آدم سكنوا إليه فهو أبوهم وإنما ‌سمي ‌نوحا لأنه ناح على قومه ألف سنة إلا خمسين عاما يدعوهم إلى الله فإذا كفروا بكى وناح عليهم."

(سورة الاعراف، ج:3، ص:480،ط:دارالفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501100553
تاریخ24-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں