بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شاہ میر حسن نام رکھنے کا حکم

سوال

میں نے اپنے بھتیجے کا نام شاہ میر حسن رکھا ہے، تو اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا  یہ نام رکھنا شرعًادرست ہے ؟

جواب

'شاہ' اور'میر' دونوں فارسی زبان کے الفاظ ہیں،اصل میں تھا شاہ امیر ،پھر شاہ میر بن گیا،"شاہ"سیدوں کا اعزازی لقب ہے،اور "میر "کے معانی میں ایک معنی افسر،سردار ہے،لہذا شاہ میر کا معنی ہوا ،معزز سردار، اور حسن عربی زبان کا لفظ ہے،اس  کامعنی خوبصورت  ہے، اس  لحاظ  سے  شاہ  میر  حسن  کا معنی ہوگا:"معزز ( اور)  خوبصورت سردار  " ، یہ نام رکھنا درست ہے۔

فیروز اللغات اردو جدید میں ہے:

"شاہ:[ف،ا،مذکر](1)آقا، مالک(2)بادشاہ(3)فقیروں اور سیدوں کا لقب(4)شطرنج کا ایک مہرہ(5)دولھا(6)[صف]عمدہ،معزز،سب سے بڑا،بہترین۔"

(حرف شین،ص:445، ط: فیروز سنز پرائیوٹ لمیٹڈ،لاہور)

وایضاً:

"میر:[ف،ا،مذکر](1)افسر،سردار(2)راہ نما،پیشوا(3)سیدوں کا اعزازی لقب(4)شہزاد(5)تاش کا بادشاہ۔"

(حرف میم،ص:667،ط: فیروز سنز پرائیوٹ لمیٹڈ،لاہور)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501100463
تاریخ23-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں