بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرد کا پاؤں کے تلووں پر مہندی لگانا

سوال

کیا مرد کے لیے پیر کے تلوے میں مہندی لگانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگانا عام حالات میں خواتین کے ساتھ خاص ہے، جب کہ مردوں کے لیے خواتین کی مشابہت اختیار کرنا اور ہاتھ پیر میں مہندی لگانا مکروہ ہے۔البتہ مجبوری کی صورت میں (مثلاً بطورِ علاج) مرد کے لیے   پاوٴں كے تلوے  میں مہندی لگانے کی اجازت ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

" قوله ( خضاب شعره ولحيته ) لا يديه ورجليه فإنه مكروه للتشبه بالنساء ".

(ج:6،ص:422،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولا ينبغي أن يخضب يدي الصبي الذكر ورجله إلا عند الحاجة ويجوز ذلك للنساء كذا في الينابيع ".

(ج:5،ص؛359،ط:رشیدیہ)

فتاوی رشیدیہ میں ہے :

"حنا کو لگانے میں تشابہ عورت کے ساتھ ہوتاہے، لہذا درست نہیں ، دوسرا علاج کرے اور پھوڑے پر رکھنا موجب مشابہت نہیں"۔

(مردوں کا مہندی لگانا ، ص:589،ط:عالمی مجلس تحفظ اسلام کراچی)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501100350
تاریخ23-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں