بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شریک کو بتائے بغیر اپنا حصہ فروخت کرنا

سوال

زیدوحامد نے ملکرایک گاڑی 25 لاکھ روپے پرخریدلی ہرایک  نے ساڑھے بارہ لاکھ روپے جمع کیے،اس کے کچھ عرصہ بعدزیدنے حامدکوبتاۓبغیر اپناحصہ نفع کے ساتھ بیچ دیاتوکیاشریک کو بتاۓ بغیر اپنا حصہ بیچناجائزہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں زید اپنا حصہ فروخت کرنے میں خود مختار ہے اور اس کا اپنے شریک حامد کو اطلاع کیے بغیر اپنا حصہ کسی اجنبی کو فروخت کرنا شرعا درست ہے۔

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"كذلك لو كانت شاة أو فرس أو أموال أخرى مشتركة بين اثنين وباع أحدهما حصته لأجنبي فالبيع صحيح وليس للشريك إبطال هذا البيع. انظر المادة (5 1 2) سواء كانت هذه الأموال قابلة للقسمة أو لم تكن،وتعبير " البيع " الوارد في هذه الفقرة غير احترازي باعتبار إذ الحكم في الإخراج من الملك على الإطلاق هو على هذا المنوال."

(الکتاب العاشر :الشرکات،ج3،ص49،ط؛دار الجیل)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144501100224
تاریخ22-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں