بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچی کا نام جُزل رکھنا ؍ جزلہ نام

سوال

جُزل لڑکی کےلئے یہ نام ٹھیک ہے ؟

جواب

جُزل (جیم کے پیش کے ساتھ) أَجْزَل اسمِ تفضیل کی جمع ہے اور أَجْزَل جَزَل سے نکلا ہے جس کا معنی عظیم ہونا ہے۔ عربی قواعد کے اعتبار سے جزل لڑکی کا نام نہیں ہوسکتا۔ تاہم اس کی مؤنث جَزْلَة آتی ہے جس کا ایک معنی ہے بڑے سُرین والی عورت۔ اس معنی کے لحاظ سے یہ نام مناسب نہیں ہے۔

 اس کا دوسرا معنی سمجھدار عورت ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے یہ نام درست ہے۔

بہتر ہے کہ صحابیات کے ناموں میں سے کسی کا نام رکھ لیا جائے۔

لسان العرب  میں ہے:

"ورجل جزل الرأي وامرأة جزلة بينة الجزالة: جيدة الرأي. وما أبين الجزالة فيه أي جودة الرأي. وفي حديث موعظة النساء:

قالت امرأة منهن جزلة

أي تامة الخلق؛ قال: ويجوز أن تكون ذات كلام جزل أي قوي شديد. واللفظ الجزل: خلاف الركيك. ورجل جزل: ثقف عاقل أصيل الرأي، والأنثى جزلة وجزلاء. قال ابن سيده: وليست الأخيرة بثبت. والجزلة من النساء: العظيمة العجيزة، والاسم من ذلك كله الجزالة. وامرأة جزلة: ذات أرداف وثيرة. والجزيل: العظيم."

(ل، فصل الجيم، ج11، ص109، دار صادر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501100217
تاریخ22-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں