بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں احتلام ہونا/ بغیر غسل مسجد میں رہنا

سوال

 میں ایک طالب علم ہوں،  رات کو قیام میرا مسجد میں ہوتا ہے،  کبھی کبھار رات کو احتلام ہو جاتا ہے،  میرے اندر ڈرنے کی بیماری بہت زیادہ ہے،  ڈر کی وجہ سے  آدھی رات کو غسل کے لیے نہیں اٹھ پاتا، کیا میرے لیے حالت جنابت میں مسجد میں رہنے کی گنجائش ہے؟

 

جواب

مسجد میں احتلام ہوجانے کی صورت میں آدمی   فوراً  تیمم کرے، پھر جتنا جلد ہوغسل کے لیے جائے،اگر باہر جانے میں خوف ہوتوتیمم کر کے مسجد میں ٹھہرے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا خاف الجنب أو الحائض سبعا أو لصا أو بردا فلا بأس بالمقام فيه والأولى أن يتيمم تعظيما للمسجد. هكذا في التتارخانية."

(كتاب الطهارة، الفصل الرابع في احكام الحيض والنفاس، ج: 1، ص: 92، ط: دار الفكر بيروت)

فتاوى قاضيخان میں ہے:

"ومن احتلم وهو في المسجد يخرج من ساعته فإن كان في جوف الليل وخاف الخروج يستحب له أن يتيمم."

(كتاب الطهارة، فصل في ما يوجب الغسل، ج: 1، ص: 45، دار كتب العلمية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501100161
تاریخ22-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں