بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وضو کے بچے ہوئےپانی سے استنجا کرنا

سوال

وضو کے بچے  ہوئےپانی سے استنجا درست ہے کہ نہیں؟ 

جواب

وضو  سے بچے ہوئے پانی سے  استنجا  کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔

حلبی کبیر میں ہے:

"وينزل عليكم من السماء ماء ليطهركم  به دل  بعبارته علي كون ماءالمطر مطهراو بدلالته علي كون سائر المياه المطلقة مثله مطهرة مالم  يعرض لها عارض يزيل ذالك الحكم عنها."

(أحكام المياه،ص:86، ط:محمدی لاہور)

 فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:

’’سوال: وضو سے بچے ہوئے  پانی سے استنجاء کرسکتے ہیں یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً ومسلماً:اس پانی سے ا ستنجاء کرنادرست ہے۔‘‘

(فتاوی دارالعلوم دیوبند،ج:1، ص:137، ط:دارالاشاعت)

مسائل بہشتی زیور میں ہے:

’’وضوء سے بچے ہوئے پانی سے استنجاء کرنا درست ہے.‘‘

(باب الاستنجاء،ص:128،ط:ادارہ  نشریات اسلامی)

فقط واللّٰہ تعالی اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501100071
تاریخ19-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں