بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبرستان میں جانور چرانا منع ہے

سوال

قبرستان میں جانور چرانے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

قبرستان میں جانور چرانے کے لیے چھوڑنا منع ہے؛ اس لیے کہ اس میں قبریں روندی جائیں گی اور  جانوروں کا پیشاب قبروں پر گرےگا   جس سے میت  کی بے حرمتی ہوگی،البتہ اگر قبرستان میں غیر ضروری گھاس پھونس اگتی ہو تو اسے کاٹ  کر جانوروں کو کھلایا جاسکتا ہے ۔

البحر الرائق میں ہے:

"ولا يجوز لأهل القرية الانتفاع بالمقبرة الدائرة فلو كان فيها حشيش يحش ويرسل إلى الدواب ولا ترسل الدواب فيها".

(كتاب الوقف، فصل اختص المسجد بأحكام تخالف أحكام مطلق الوقف، ج:5، ص:268، ط: دار الكتاب الاسلامي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501100028
تاریخ19-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں