بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منتشا نام رکھنے کا حکم

سوال

منتاشا ،منتاشہ نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

   ’’منتاشا‘‘  اور  "منتاشہ عربی و اردو لغت کے اعتبار سے کوئی لفظ نہیں ہے، البتہ عربی زبان میں ’’مَنْ‘‘ اور  ’’تَشَاء‘‘ دو الگ الگ الفاظ ہیں، جن کو ملاکر پڑھا جائے تو ’’من تشاء‘‘ بنے گا اور اس کا مطلب ہے ’’جس کو تو چاہے‘‘ ۔ ممکن ہے کہ کسی نے قرآنِ کریم  کی آیت : "وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ"سے یہ لفظ اخذ کرکے اسے نام کے طور پر پیش کردیا ہو، لہٰذا ’’من تشاء‘‘  نام نہ رکھا جائے،اس کی بجائے صحابیات کے ناموں میں سے کوئی نام منتخب کرکے رکھ دیا جائے ۔

"المحیط البرهاني "میں ہے :

 "وفي «الفتاوى»: التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في كتابه ولا ذكره رسول الله عليه السلام، ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لاتفعل".

(المحيط البرهاني في الفقه النعماني،ج:5،ص:382،ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501100026
تاریخ19-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں