بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک ماہ کی بچی کی کفالت کا حق

سوال

اگر ایک عورت کا انتقال ہوجائے،اور اس کی ایک ماہ کی چھوٹی بیٹی ہو،تو کیا اس کے نانانانی اس بچی کو اس کے والد کی مرضی کے بغیراپنے پاس رکھ سکتے ہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بچی جس کی عمر ایک ماہ ہے ،اس کی پرورش کاحق نو سال تک اس کی نانی  کو حاصل ہے ،لہذا بچی کے نانا نانی والد کی اجازت کے بغیر بچی کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں ،البتہ  بچی کے والد کو اس سے ملاقات یا اس کی دیکھ بھال سے روکنا شرعا درست نہیں، بہتر یہ ہے کہ باہمی مصالحت ومفاہمت سے  معاملہ کو طے کریں ،تاکہ خاندان انتشار سے محفوظ رہ سکے ۔

الدرالمختار میں ہے:

"(ثم) أي ‌بعد ‌الام ‌بأن ‌ماتت أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الام) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الاب وإن علت) بالشرط المذكور."

(كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:3،ص:563، ط:سعید)

            فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة ، وإن علت ، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير."

(کتاب الطلاق، الباب السادس عشرفی الحضانة،ج:1،ص:541، ط :دار الفكر)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412101555
تاریخ18-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں