بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دعاؤں کو عربی زبان کے علاوہ کسی زبان میں لکھنا

سوال

مسنون قرآنی دعاؤں کو عربی زبان کے علاوہ زبان میں لکھنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں قرآنی دعاؤں کو غیر عربی زبان میں لکھنا جائز نہیں ہے،  البتہ ان دعاؤں کا ترجمہ دعاؤں کے عنوان سے  لکھنا جائز ہے۔

الاتقان میں ہے:

"سئل مالك عن الحروف في القرآن مثل الواو والألف أتری أن یغیر من المصحف إذا وجد فیه کذلك؟ قال: لا. قال أبو عمرو: یعني الواو والألف المزیدتین في الرسم المعدومتین في اللفظ نحو الواو في’’أولوا‘‘. وقال الإمام أحمد: یحرم مخالفة مصحف الإمام في واو أو یا أو ألف أو غیر ذلك. وقال البیهقي في شعب الإیمان: من یکتب مصحفاً فینبغي أن یحافظ علی الهجاء الذي کتبوا به هذه المصاحف، ولایخالفهم فیه ولایغیر مما کتبوه شیئاً؛ فإنهم کانو أکثر علمًا وأصدق قلبًا ولسانًا أعظم أمانةً منا؛ فلاینبغي أن نظن بأنفسنا استدراکاً علیهم."

(ص: 744، قدیمی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412101401
تاریخ17-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں