بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہم بستری کے لیے بیوی کی رضامندی کا حکم

سوال

كيا همبسترى كے لیے بیوی کی رضامندی ضروری نہیں؟ کیا طبیعت کی ناسازی یا تھکن کی وجہ سے بیوی منع کرسکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بیوی پر شوہر کی جنسی خواہش کو پورا کرنا لازم ہے ، اور بغیر شرعی عذر کے اس سے انکار شرعاً جائز نہیں ہے، البتہ اگر کوئی شرعی عذر ہو،( جیسے ایامِ حیض و نفاس، بیماری، احرام کی حالت، شوہر کا حدِ اعتدال سے زیادہ ہم بستر ہونا، جس کی بیوی میں طاقت نہ ہو، یا شوہر کی جانب سے تسکین شہوت کے لیے غیر فطری راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کرنا وغیرہ ) تو  بیوی انکار کرسکتی ہے،  اور اس صورت میں وہ گناہ گار نہیں ہوگی۔

بہتر تو یہ ہے کہ شوہر بیوی  کی رضامندی کی رعایت  رکھے، البتہ اگر بیوی  بلاوجہ انکار کرتی ہو،  تو اس کی رضا مندی ضروری نہیں۔

مشكاة المصابيح میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح . متفق عليه. وفي رواية لهما قال:والذي نفسي بيده ما من رجل يدعو امرأته إلى فراشه فتأبى عليه إلا كان الذي في السماء ساخطًا عليها حتى يرضى عنها."

( كتاب النكاح، باب عشرة النساء،  ص: 280 ، ط: قديمي)

وفیہ ایضاً:

"وعن طلق بن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتأته وإن كانت على التنور. رواه الترمذي."

(كتاب النكاح، باب عشرة النساء،  ص: 281،   ط: قديمي)  

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412101400
تاریخ17-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں