بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سورۃ الضحی پر لڑکی کا نام رکھنے کا حکم

سوال

سورۃ الضحی پر لڑکی کا نام رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

"ضحی" کے معنی ہیں: دن چڑھنا، چاشت کا وقت، سورج کی روشنی، وضاحت، لہذا لڑکی کا نام صرف " ضحی" رکھنے کی گنجائش ہے، لیکن "سورۃ الضحی" نام رکھنا درست نہ ہوگا، بہتر یہ ہے کہ لڑکی کا نام صحابیات رضوان اللہ علیہن،  یا نیک خواتین  کے نام پر رکھا جائے۔

'معجم الوسیط' میں ہے:

"الضحى: ضوء الشمس. وارتفاع النهار وامتداده. ووقت هذا الارتفاع أو الامتداد، و يقال: ما لكلامه ضحى: ما له بيان."

(باب الضاد، ج: 1، ص: 535، ط: دار الدعوة)

'تاج العروس'  میں ہے:

"(والضحى)، كهدى: (فويقه)، وهو حين تشرق الشمس؛ كما في الصحاح. وقيل: هو من طلوع الشمس إلى أن يرتفع النهار وتبيض جدا؛ كما في المحكم. والأكثر على أنها مرادفة لما قبلها؛ نقله شيخنا. وقال الراغب:} الضحى: انبساط الشمس وامتداد النهار، وسمي الوقت به؛ ومنه قوله تعالى: {والضحى والليل إذا سجى}،{وأن يحشر الناس ضحى}."

(ضحو، ج: 38، ص: 454، ط: دار إحياء التراث)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412101307
تاریخ17-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں