بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چھ تولہ سونے پر زکات کا حکم

سوال

اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو اور وہ بھی 6 تولہ ہو تو اس کے لیے زکوٰۃ دینے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر کسی کے پاس صرف چھ تولہ سونا ہے ،اس کے علاوہ نقدی ،چاندی یا مال تجارت میں سے کچھ بھی نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس شخص پر زکات واجب نہیں  ہے ۔ اور  اگر سونے کے ساتھ  ضرورت سے زائد نقد رقم بچت میں موجود ہو (خواہ وہ معمولی ہو)، یا کچھ بھی چاندی یا مالِ تجارت ہو تو زکاۃ واجب ہونے کے لیے ساڑھے سات تولہ سونا ہونا ضروری نہیں، بلکہ مذکورہ اموال کی قیمت اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد ہو تو زکاۃ کا نصاب مکمل تصور کیا جاتاہے ، اور سال گزرنے پر  کل مال میں سے ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔  

حديث میں ہے :

"عن علي رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، ببعض أول الحديث قال: "فإذا كانت لك مائتا درهم، وحال عليها الحول، ففيها خمسة دراهم، وليس عليك شيء - يعني في الذهب - حتى يكون لك عشرون دينارا، فإذا كان لك عشرون دينارا، وحال عليها الحول، ففيها نصف دينار، فما زاد، فبحساب ذلك."

(سنن ابی داود،کتاب الزکاۃ،باب زکاۃ السائمہ،ج:3،ص:24،دارالرسالۃ العالمیۃ)

در مختار وحاشیۃ ابن عابدین میں ہے :

"(و قيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعا وجعلا (و) يضم (الذهب إلى الفضة) و عكسه بجامع الثمنية (قيمة)."

(کتاب الزکاۃ،باب زکاۃ المال،ج:2،ص:303،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412101256
تاریخ16-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں