بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مالداروں کے نابالغ بچوں کے لیے مدرسے کی بجلی کا استعمال کرنا کیسا ہے؟

سوال

 مالداروں کے نابالغ طلبہ کے لیے مدرسہ کی بجلی استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

مالدار شخص ہو یا غیر مالدار،ان کے بچوں کے لیےجو مدرسے میں تعلیم حاصل کررہے ہوں، وہاں  کی بجلی استعمال کرنا،اس بجلی سے فائدہ اٹھانا جائز ہے کیونکہ بجلی مالداروں اور غریبوں سب کے لیے ہوتی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به."

(کتاب الوقف، مطلب في وقف المنقول قصدا، ج:4، ص:366، ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن)
(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه، ولا يعار، ولا يرهن لاقتضائهما الملك."

(كتاب الوقف، مطلب في وقف المرتد والكافر، ج:4، ص:352، ط:مصطفي البابي الحلبي)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412101091
تاریخ15-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں