بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح میں لڑکی کی عمر کا لڑکے سے کم ہونے کا حکم

سوال

کیا نکاح کے لئے لڑکی کی عُمر لڑکے سے کم ہونا ضروری ہے ؟

جواب

نکاح کے لیے لڑکی کی عمر کا لڑکے سے کم ہونا ضروری نہیں ہے ،البتہ   نکاح کے وقت اس بات کا خیال رکھنا کہ لڑکی اپنے شوہر سے عمر ،حسب، عزت اور مال کے اعتبار سے کم ہوتوبہتر ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وكونها دونه سنا وحسبا وعزا، ومالا (قوله: دونه سنا) لئلا يسرع عقمها فلا تلد. (قوله: وحسبا) هو ما تعده من مفاخر آبائك ح عن القاموس أي بأن يكون الأصول أصحاب شرف وكرم وديانة؛ لأنها إذا كانت دونه في ذلك، وكذا في العز أي الجاه والرفعة وفي المال تنقاد له، ولا تحتقره، وإلا ترفعت عليه وفي الفتح روى الطبراني عن أنس عنه - صلى الله عليه وسلم - من تزوج امرأة لعزها لم يزده الله إلا ذلا، ومن تزوجها لمالها لم يزده الله إلا فقرا، ومن تزوجها لحسبها لم يزده الله إلا دناءة، ومن تزوج امرأة لم يرد بها إلا أن يغض بصره ويحصن فرجه أو يصل رحمه بارك الله له فيها وبارك لها فيه"

(کتاب النکاح ،ج:3 ،ص:8،ط:سعید)

واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412101032
تاریخ15-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں