بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور کی کھال کا حکم

سوال

قربانی کے جانور کا چمڑا بھی کیا قربانی کا حصہ ہوتا ہے اگر  قربانی کے جانور کا چمڑا بھی قربانی کا حصہ ہوتا ہے تو اسے کیسا استعمال کیا جائے؟

جواب

قربانی کی کھال کا وہ حکم ہے جو اس کے گوشت کا حکم ہے،  کھال جب تک موجود ہو تو قربانی کرنے والے کو اس میں تین قسم کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں: (1) خود استعمال کرنا۔ (2) کسی کو ہدیہ کے طور پر دینا۔ (3) فقراء اور مساکین پر صدقہ کرنا۔البتہ اگر کوئی خود استعمال کرنا چاہتا ہے تو استعمال کر سکتا ہےکہ دباغت کے ذریعے پاک کرکے اسے جائے نماز وغیرہ بنا لی جائے اور نماز پڑھنے کے لیے استعمال کی جائے، یا کنویں سے پانی نکالنے کےلیے ڈول وغیرہ بنا لیا جائے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويتصدق بجلدها أو يعمل منه نحو غربال وجراب، ولا بأس بأن يشتري به ما ينتفع بعينه مع بقائه استحسانا وذلك مثل ما ذكرنا".

(الباب السادس في بيان ما يستحب في الأضحية والانتفاع بها، ج: ۱، صفحہ: ۳۰۱، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100970
تاریخ13-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں