بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کو ڈالر قرض دیے ہوں تو کس کرنسی میں وصول کیا جائے؟

سوال

 کسی کو ڈالر قرضہ میں دیے ہوں تو مدت پوری ہونے کے بعد  کون سی کرنسی وصول کروں؟کیونکہ ڈالر بمقابلہ پاکستانی روپے کم وزیادہ ہوتا ہے!

جواب

واضح رہے کہ قرض کا اصول  یہ ہے کہ جو چیز  بطور قرض دی جائے اسی کے مثل وصول کی جائے،چناں چہ اگر کسی شخص نے  ڈالر قرض ديے  تو اصلاً اتنی ہی مقدار  ڈالر  وصول کرسکتاہے،البتہ اگر کوئی شخص کسی اور کرنسی کی صورت میں قرضہ لوٹانا چاہے ،مثلاً پاکستانی روپے میں مقروض سے وصول کرنا چاہے تو ادائیگی کے وقت کی موجودہ مالیت کے اعتبار سے اپنا قرض وصول کرسکتا ہے۔

العقود الدریہ میں ہے:

"(‌سئل) ‌في ‌رجل ‌استقرض ‌من ‌آخر ‌مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟

(الجواب) : نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمدا من مجمع الفتاوى."

(كتاب البيوع،باب القرض،ج1،ص279،ط:دار المعرفة)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"الأصل بأن ‌الديون ‌تقضى ‌بأمثالها."

(كتاب الزكاة،باب العشر،ج2،ص210،ط:مطبعة السعادة)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100869
تاریخ12-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں