بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرمتِ مصاہرت میں مذہبِ غیر پر فتویٰ دینے کا حکم اور شرعی طلاقِ کلما کے حیلے کو شافعی مذہب سے منقول کہنے کی حقیقت

سوال

 حرمتِ مصاہرت  اگر غلطی سے ثابت ہو جائے تو کیا  میاں بیوی کا ایک دوسرے پر حلال ہونے کا کوئی  راستہ ہے؟ جیسا کہ کلما طلاق اگر کوئی معلق کردے تو اس کے لئے شافعی مذهب پر راستہ نکالا گیا ہے جس سے وہ نکاح کر سکتا ہے۔

جواب

حرمتِ مصاہرت کے باب میں حنفیہ کے نزدیک مذہبِ غیر پر فتوی دینا  کسی صورت جائز نہیں ہے،نہ ہی حرمتِ مصاہرت کو ختم کرنے  کا کوئی حیلہ ہے، خواہ کسی بھی سبب سے حرمت ثابت ہو،   نکاح سے پہلے ہویا  نکاح کے بعد ،کوئی بھی سبب پایا گیا ہو۔باقی سائل کا یہ کہنا کہ  کلما طلاق اگر کوئی معلق کردے الخ تو ہمارے علم میں کلما  کی معلق طلاق سے بچنے کے لیے  شافعی مذہب  کے اعتبار سے  فتویٰ دینے کے کسی راستے کاعلم نہیں ۔

اس مسئلے کی تفصیلی وضاحت کے لیے ہماری جامعہ کی جانب سے جاری شدہ  مندرجہ ذیل فتویٰ کا لنک   ملاحظہ فرمائیں:

حرمتِ مصاہرت میں معاشرے کی ضرورت کی وجہ سے مذہب غیر پر فتوی دینا (تفصیلی فتویٰ)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144412100834
تاریخ12-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں