بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح پڑھوانے کے لیے قریبی مسجد کے نکاح خواں کا ہونا ضروری نہیں

سوال

کیا نکاح خواں اپنے قریب کی مسجد کا ہونا چاہیے یا پھر ہم کسی سے بھی نکاح پڑھواسکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح پڑھوانے کے لیے کسی خاص اور قریبی مسجد کے نکاح خواں کی کوئی قید نہیں ہے، لہذا جو شخص دیندار اور مسائل نکاح سے واقف ہو اس سے نکاح پڑھوایا جاسکتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وكونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد".

(کتاب النكاح، ج:3، ص:8، ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100813
تاریخ12-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں