بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

استعمال کے لیے لیے ہوئے جانور سے قربانی کرنے کا حکم

سوال

 ادھار لیے ہوئے جانور سے قربانی کرنے کا کیا حکم ہے؟  میں "قربانی کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا" نامی کتاب پڑھ رہا تھا تو ایک مسئلہ صفحہ نمبر 27 پر نظر سے گزرا کہ "ادھار لیے ہوئے جانور سے قربانی کرنا درست نہیں، کیوں کہ وہ غیر کی ملک میں ہے" ، آں جناب سے دست بستہ عرض ہے کہ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ قربانی کا جانور ادھار خرید کر اس سے  قربانی کی تو قربانی ہوجائے گی، کیوں کہ  ادھار خریدا ہوا جانور قربانی کرنے  والے کی ملکیت میں ہے، البتہ مذکورہ کتاب میں جو مسئلہ بیان کیا ہے اس سے مراد ادھار (عاریت یعنی استعمال کے لیے) لیے ہوئے جانور سے قربانی کی تو قربانی نہیں ہوگی، کیوں کہ اس صورت میں ذبح شدہ جانور قربانی کرنے والے کی ملکیت میں نہیں ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

ولو أودع رجل رجلا شاة يضحي بها المستودع عن نفسه يوم النحر فاختار صاحبها القيمة ورضي بها فأخذها فإنها لا تجزي المستودع من أضحيته، بخلاف الشاة المغصوبة والمستحقة، ووجه الفرق أن سبب وجوب الضمان ههنا هو الذبح والملك ثبت بعد تمام السبب - وهو الذبح - فكان الذبح مصادفا ملك غيره فلا يجزيه، بخلاف الغاصب فإنه كان ضامنا قبل الذبح لوجود سبب وجوب الضمان وهو الغصب السابق، فعند اختيار الضمان أو أدائه يثبت الملك له من وقت السبب وهو الغصب فالذبح صادف ملك نفسه فجاز، وكل جواب عرفته في الوديعة فهو الجواب في العارية والإجارة بأن استعار ناقة أو ثورا أو بعيرا أو استأجره فضحى به أنه لا يجزيه عن الأضحية سواء أخذها المالك أو ضمنه القيمة؛ لأنها أمانة في يده وإنما يضمنها بالذبح فصار كالوديعة، 

(کتاب التضحية، فصل في شرائط جواز إقامة الواجب في الأضحية، ج:5، ص:77، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100730
تاریخ12-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں