بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ/ دوبیٹی/ دو بھائی/ تین بہنوں میں میراث کی تقسیم

سوال

 میت کی ایک بیوی  دو بیٹیاں دوبھائی اور تین بہنیں ہیں،  ان کے حصوں کی تقسیم کیسے ہو گی؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم  کی جائیداد تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے  کہ مرحوم کی جائیداد سے حقوقِ متقدمہ  ( یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اور مرحوم کے ذمہ واجب الادا  قرض اور جائز وصیت کے   مابقیہ ترکے کے ایک تہائی سے نفاذ کے بعد)  کل جائیدادِ منقولہ وغیرمنقولہ کو(168) حصوں میں تقسیم کرکے اکّیس (21) حصے مرحوم کی بیوہ کو، اور چھپن (56) حصّے مرحوم کے ہر بیٹی کو، اور دس (10) حصے مرحوم کے ہر بھائی کو، اور پانچ حصے مرحوم کی ہر بہن کو ملیں گے، مزید وضاحت کے لئے نقشہِ میراث درجِ ذیل ہے:

میت: 24/ 168۔۔۔۔۔۔۔۔

بیوہ بیٹی بیٹی بھائی بھائی بہن بہن بہن
3 8 8 5
21 56 56 10 10 5 5 5

فیصد کے اعتبار سے سو (100) روپے میں سے 12.50 روپے مرحوم کی بیوہ کو، اور 33.33روپے ہر بیٹی کو، اور  5.95 روپے مرحوم کے ہر بھائی کو، 2.97روپے مرحوم کی ہر بہن کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100656
تاریخ08-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں