بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سجدہ میں امام سے پہلے جانے کا حکم

سوال

اگر کوئی شخص امام سے سجدے میں ایک آدھا سیکنڈ غلطی سے پہلے چلا جاۓ تو اس کی نماز ہو جاۓ گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  امام سے پہلے کسی بھی  رکن میں سبقت  کرنے سے یعنی پہلے جانے سے نماز تو ہوجائے گی لیکن امام سے آگے بڑھنا(خواہ سجدے میں ہو یارکوع وغیرہ میں) مکروہِ تحریمی ہے، اس سے بچنا ضروری ہے،حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص امام سے پہلے رکوع یا سجدے سے سر اٹھاتا ہے، کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالی اس کے سر کو گدھے کے سر سے بدل دیں۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے :

"وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما يخشى الذي يرفع رأسه قبل الإمام أن يحول الله رأسه ‌رأس ‌حمار."

(کتاب الصلاۃ،باب ما علی الماموم من المتابعۃ،ج:1،ص:358،المکتب الاسلامی)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ويكره للمأموم أن يسبق الإمام بالركوع والسجود وأن يرفع رأسه فيهما قبل الإمام. كذا في محيط السرخسي".

(کتاب الصلاۃ،الباب السابع فیما یفسد الصلاۃومایکرہ فیہا،ج:1،ص:107،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100655
تاریخ07-07-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں