بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس جانور کا پیشاب بلکل بند ہوجائے اس کی قربانی کا حکم

سوال

اگر جانور کا پیشاب بند ہو جائے، اور ڈاکٹر روزانہ کی بنیاد پر اس کا پیشاب سرنج سے نکالتا ہو، تو کیا اس کی قربانی جائز ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ جانور اگر کسی صاحب نصاب شخص نے خریدا اور پھر وہ اس مرض میں مبتلا ہوگیا ،تو اس کے لیے اس جانور  کی قربانی کرنا جائز نہیں ہے۔اور اگر خریدنے والا غریب ہو ،جس پر قربانی لازم نہیں تھی،اور خریدنے کے بعد جانور میں یہ عیب پیدا ہوگیا ،تو وہ اسی جانور کی قربانی کرلے،اس کی قربانی ادا ہوجائے گی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ومن المشايخ من يذكر لهذا الفصل أصلا ويقول: كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع، ثم كل عيب يمنع الأضحية ففي حق الموسر يستوي أن يشتريها كذلك أو يشتريها وهي سليمة فصارت معيبة بذلك العيب لا تجوز على كل حال، وفي حق المعسر تجوز على كل حال، كذا في المحيط."

(كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج:5، ص:299، ط:دار الفكر۔بيروت)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100642
تاریخ26-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں