بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

محمد کے ساتھ کوئی اور نام رکھنے کا حکم

سوال

محمد نام رکھنے کی جو فضیلت اور برکت کا روایات میں ذکر ہے، وہ صرف محمد نام رکھنے سے حاصل ہوں گے ؟یا محمد کے ساتھ کوئی اور نام  لگائے تب بھی وہ فضیلت اور برکت حاصل ہو گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  احادیث میں محمد نام رکھنےکی جو  فضیلت وارد ہوئی ہےوہ صرف محمد نام کی ہے،  البتہ اگر کسی اور نام کے ساتھ محمد کانام لگایا جائے تب بھی باعث برکت ہے۔

العرف الشذی میں ہے:

" وفي رواية في المعجم للطبراني: «من سمى ولده محمداً، أنا شفيعه». وصحّحها أحد من المحدثين وضعّفه آخر".

(کتاب الآداب، باب ما جاء یستحب من الأسماء، ج: 4، ص: 181، ط: دارإحیاء التراث العربي، بیروت)

 سیرتِ حلبیہ میں ہے:

"وفي حديث معضل: «إذا كان يوم القيامة نادى منادٍ: يا محمد! قم فادخل الجنة بغير حساب! فيقوم كل من اسمه محمد، يتوهم أن النداء له؛ فلكرامة محمد صلى الله عليه وسلم لا يمنعون»"

(باب تسمیته ﷺ محمداً واحمد،ج: 1، ص: 121،  ط: دارا لکتب العلمیہ)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100499
تاریخ25-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں