بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیرون ملک مقیم کا دوسرے ملک میں قربانی کرنا

سوال

كیا امریکہ میں رہنے والے اگر پاکستان میں قربانی کروائیں تو درست ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ جس آدمی پر قربانی واجب ہے ،اس کے لیے کسی دوسرے ملک  میں کسی شخص کو رقم بھیج کرقربانی کرنے کے لیے کہنا شرعاً درست ہے ،البتہ  اتنا ضروری ہے کہ جس دن قربانی کی جائے ،وہ دن دونوں ملکوں  میں قربانی کا مشترکہ دن ہو ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"لأن الذبح هو القربة فيعتبر مكان فعلها لا مكان المفعول عنه.وإن كان الرجل في مصر وأهله في مصر آخر فكتب إليهم أن يضحوا عنه روي عن أبي يوسف أنه اعتبر مكان الذبيحة فقال: ينبغي لهم أن لا يضحوا عنه حتى يصلي الإمام الذي فيه أهله، وإن ضحوا عنه قبل أن يصلي لم يجزه، وهو قول محمد - عليه الرحمة."

(کتاب التضحیة،فصل في شرائط جواز إقامة الواجب في الأضحية،ج:5،ص:74،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100495
تاریخ25-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں