بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناموں سے تبرک

سوال

 اصحاب کہف اور دیگر صحابہ کرام اور اولیائے عظام اور انبیاء کرام کے اسماء گرامی سے تبرک کی شرعی حیثیت کیا ہے؟بحوالہ جواب ارسال فرمائیں ، ایک تو اصحاب کہف کے اسماء کےخواص وفوائدہ کتب میں مذکور ہیں ،وہ الگ چیز ہے، فقط تبرک حاصل کرنا کیسا ہے؟

جواب

 بچوں کا نام  انبیاءِ کرام علیہم الصلوات و التسلیمات ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین  اور اولیاء ِ کرام رحمہم اللہ  کے نام پر بطورِ تبرک   اور نیک فال رکھنا  شرعاً  مستحب ہے۔

مسند احمد میں ہے :

"حدثنا هشام بن سعيد، حدثنا محمد بن مهاجر، يعني أخا عمرو بن مهاجر قال: حدثني عقيل بن شبيب، عن أبي وهب الجشمي، وكانت صحبة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ‌تسموا ‌بأسماء ‌الأنبياء، وأحب الأسماء إلى الله عز وجل عبد الله وعبد الرحمن، وأصدقها حارث وهمام، وأقبحها حرب ومرة، وارتبطوا الخيل، وامسحوا بنواصيها وأعجازها، أو قال: وأكفالها، وقلدوها ولا تقلدوها الأوتار، وعليكم بكل كميت أغر محجل أو أشقر أغر محجل، أو أدهم أغر محجل."

(‌‌مسند الكوفيين،حديث أبي وهب الجشمي له صحبة،ج31،ص377،رقم:19032،ط:مؤسسة الرسالة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100482
تاریخ25-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں