بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرحوم شوہر کے ترکہ میں بیوہ کا حصہ

سوال

 اگر اولاد نہ ہو  تو بیوہ کا کتنا حصہ ہے؟ اور اگر صرف بیٹیاں ہوں تو بیوہ کا  وراثت میں کتنا حصہ ہوگا؟

جواب

مرحوم شوہر کی اگر اولاد نہ ہو تو اس کے ترکہ کے ایک چوتھائی کی بیوہ حقدار ہوتی ہے، یعنی 100 روپے میں سے 25 روپے بیوہ کو ملیں گے، اور اگر مرحوم شوہر کی اولاد ہو، خواہ بیٹے بیٹیاں،  دونوں ہوں،  یا صرف بیٹا، یا صرف بیٹی ہو ، بہر صورت بیوہ ترکہ کے آٹھویں حصہ ( یعنی 100 روپے میں سے 12.50 روپے )  کی حقدار ہوتی ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے:

"وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ"

( النساء: ١٢)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100388
تاریخ24-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں