بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آٹھ آدمیوں کا 2 گائے کی قربانی کرنے کا حکم

سوال

آٹھ آدمی مل کر دو بڑے جانور کو قربانی کے لئے خریدےاور پھر ان دونوں جانوروں کی قربانی کرکے پورے گوشت کو آٹھ حصوں میں تقسیم کرلیں ،کیا اس طرح قربانی کرنا درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ہر ایک جانور  میں اگر چار چار افراد شریک ہوں تو قربانی درست ہوگی اور اگر دونوں جانوروں میں آٹھ آٹھ افراد شریک ہوں تو  قربانی جائز نہیں ہوگی۔

فتاوی عالم گیری میں ہے :

"وإذا كان الشركاء في البدنة أو البقرة ثمانية لم يجزهم؛ لأن نصيب أحدهم أقل من السبع."

(كتاب الأضحية،الباب الثامن،ج5،ص305،ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100334
تاریخ24-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں