بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حنفہ نام رکھنا

سوال

 حنفه نام کیسا رہے گا؟

جواب

 عربی  ،اردو اور فارسی کی لغت کی دستیاب کتب میں ’’حنفہ‘‘ کا لفظ نہیں مل سکا،البتہ عربی لغت کی کتابوں میں    ’’حَنَفَ‘‘ کا مادہ ہے اور اس     کا معنیٰ ’’مائل ہونا‘‘ ہے، اسی سے ’’حَنیِف‘‘ کا معنی دینِ اسلام کی طرف مائل ہونے والا اور استقامت کے ساتھ چلنے والا ہو گا، لہذا  ’’حنفہ ‘‘  کے بجائے ’’حنیفہ‘‘  نام رکھ  لیں۔

 نیز    بچوں کے نام رکھنے کے متعلق  بہتر صورت یہ ہے کہ  انبیاء  کرام علیہمُ السلام، صحابہ رضی اللہ عنہم  اور امت کے اکابر واسلاف کے ناموں کو اختیار کیا جائے اور اگر بچی ہے تو صحابیات کے نام میں سے کوئی نام رکھنا زیادہ بہتر ہے۔

وفي تاج العروس من جواهر القاموس :

"والحنيف، كأمير: الصحيح الميل إلى الإسلام، الثابت عليه، وقال الراغب: هو المائل إلى الاستقامة. وقال الأخفش: الحنيف: المسلم، قال الجوهري: وقد سمي المستقيم بذلك، كم سمي الغراب أعور، وقيل: الحنيف هو المخلص، وقيل: من أسلم لأمر الله، ولم يلتو في شيء. وقال أبو زيد: الحنيف: المستقيم، وأنشد:

(تعلم أن سيهديكم إلينا … طريق لا يجوز بكم حنيف)

وقال الأصمعي: كل من حج فهو حنيف، وهذا قول ابن عباس، والحسن، والسدي، ورواه الأزهري عن الضحاح مثل ذلك. أو الحنيف: من كان على دين إبراهيم صل الله عليه، وعلى نبينا وسلم في استقبال قبلة البيت الحرام، وسنة الاختتان."

(23/ 170،ط:دار إحياء التراث)

فقط والله  أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100146
تاریخ21-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں