بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کا جانور وزن کرکے خریدنا

سوال

تول کر  قربانی کا جانور لینا کیسا ہے؟ اور اس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

جواب

 قربانی کاجانور خریدتے وقت زندہ جانور  کا وزن کرکے  اس کو نقد رقم یا غیر جنس کے عوض خریدنا جائز ہے،اور ایسے جانور کی قربانی بھی جائز ہے،  البتہ اِس بات کا لحاظ ضروری ہے کہ خریدتے ہوئے قربانی ہی کو مقصود اور پیشِ نظر رکھاجائے، گوشت کے حصول کی نیت نہ ہو ۔

 قربانی کے احکام  و مسائل از مفتی  اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ  میں ہے :

" مسئلہ نمبر۱۴:۔۔۔ موجودہ دور میں جانوروں کو تول کر (وزن کرکے) خریدوفروخت کرنا بھی جائز ہے، ایسی قربانی بلاشبہ درست ہے۔" 

( ص:21، ناشر: جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن  کراچی)

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

" قد علم أن الشرط قصد القربة من الكل."

(6/ 326،  كتاب الأضحية، ط: دار الفكر)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100141
تاریخ21-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں