بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گورنمنٹ کے اشیاء سے اجازت کے بغیراستعمال کرنا

سوال

پرائیویٹ حج کرنے والے  گورنمنٹ حج والوں کی اشیاء اور سفر کیلئے بس جو گورنمنٹ کے طرف سے گورنمنٹ حج والو کیلئے خاص ہے استعمال کر سکتی ہیں کہ نہیں؟

جواب

اگر گورنمنٹ   کی طرف سے دی گئی اشیاءاور سفر کے لیے بس  صرف گورنمنٹ کے پیکج کے تحت گونمنٹ کی جانب سے حج کرنے والوں کے لیے خاص ہو تو پرائیویٹ حج کرنے  والوں کے لیے گورنمنٹ کی اجازت  کے بغیر ان کا  استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا، لیکن اگر گورنمنٹ کی طرف سے ان اشیاء اور بس سروس کا   استعمال  گورنمنٹ حج والوں کے لیے مخصوص  نہ ہو، بلکہ ہرحج کرنے  والے کے لیے اجازت ہو  تو پھرپرائیویٹ حج کرنے والے کے  لیے بھی استعمال کرنا جائز ہے۔

مشكاة المصابيح ميں هے:

"و عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا لاتظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."

(كتاب البيوع، باب الغصب والعارية،ج:2،ص:889،ط:المكتب السلامي)

ترجمہ : "اور حضرت  ابو حرہ رقاشی رضی اللہ عنہ اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" خبردار!کسی پر ظلم نہ کرنا، جان لو! کسی بھی دوسرے شخص کا مال اس کی  مرضی وخوشی کے بغیر حلال نہیں"۔

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."

(‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية،ص27،ط؛دار الجیل)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100096
تاریخ20-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں