بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سفر سے پہلے (حالتِ حضر) کی قضاء شدہ نمازیں سفر میں ادا کرنے کا طریقہ

سوال

حالت سفر میں پچھلی (حضر کی) قضا نمازیں قصر کرکے پڑھیں گے یا پوری پڑھیں گے ؟

جواب

 حالتِ حضر میں جو نمازیں قضاء ہوئی ہوں اُن کو جب قضا کریں گے تو مکمل اسی طرح پڑھیں گے جس طرح فرض ہوئی تھیں۔ سفر میں حضر کی قضاء نمازیں پڑھتے وقت  قصر نہیں کریں گے،بلکہ  پوری پڑھیں گے۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومن ‌حكمه أن الفائتة تقضي على الصفة التي فاتت عنه لعذر وضرورة فيقضي مسافر في السفر ما فاته في الحضر من الفرض الرباعي أربعا والمقيم في الإقامة ما فاته في السفر منها ركعتين".

(الباب الحادي عشر في قضاء الفوائت،ج:1، ص:121، ط:رشیدیه)

البحر الرّائق میں ہے:

"(قوله ‌وفائتة ‌السفر والحضر تقضى ركعتين وأربعا)  أي فائتة السفر تقضى ركعتين وفائتة الحضر تقضى أربعا؛ لأن القضاء بحسب الأداء".

(كتاب الصلاة، باب المسافر، اقتداء مسافر بمقيم في الصلاة، ج:2، ص:148، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100086
تاریخ20-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں