بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ کرنے کاحکم

سوال

تین بیٹیوں کے بعد میرا ایک بیٹا ہے۔ جب بچہ رحم میں آتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اگر لڑکا ہوا تو ہم دو بکریوں سے عقیقہ کریں گے۔ بعد میں میرا ایک بیٹا ہوا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا میری بات نذر ہو جائے گی؟ اور کیا دو بکریوں کا عقیقہ واجب ہوگا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  سائل  نے یہ کہا کہ اگر میرا بیٹا ہو تو ہم دو بکریوں سے عقیقہ کریں گے تو اس صورت میں  سائل  پر نذر کا پورا کرنا   لازم ہے ،لہذا بیٹے کے پیدا ہو نے کے بعد دو بکریوں  کا عقیقہ کرنا ضروری ہے ۔

فتاویٰ شامی میں ہے :

"ومن ‌نذر ‌نذرا ‌مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب۔۔أي غير معلق بشرط مثل لله علي صوم سنة فتح".

(کتاب الایمان،735/3،سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100065
تاریخ20-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں