بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چکی والے کو گندم دی اور چکی والے نے کہا کہ میں آپ کو آٹا دوں گا

سوال

 ايک شخص نے کسی چکی والے کو گندم دی اور چکی والے نے کہا کہ میں آپ کو آٹا دوں گا، لیکن کچھ وقت کے بعد چکی والے نے کہا:  میرے پاس آٹا نہیں ہے، میں اس گندم کی رقم ادا کروں گا،  اب چکی والا کون سی رقم ادا کرے گا؟ گندم لينے کے وقت  کی يا جو اب گندم کی رقم ہے؟

جواب

 صورتِ  مسئولہ میں   چکی والے     پر لاز م ہے کہ گندم نہ پیسنے کی صورت میں وہی گندم  موجود ہو تو وہ واپس کرے،  اگر اس نے گندم اپنے استعمال میں  لائی ہو تو اتنی ہی گندم بطور ضمان دے گا یا ادا ئیگی کے وقت اسکی جو قیمت ہو گی وہ ادا کرے گا، اگر چکی والے کی طرف سے حفاظت کے  باوجود وہ ضائع ہو گئی  ہو تو  اس پر ضمان واجب نہیں ہوگا۔

شرح المجلہ لسلیم رستم باز میں ہے:

"الوديعة أمانة في يد المودَع، فإذا هلكت بلا تعد منه و بدون صنعه و تقصيره في الحفظ لايضمن، ولكن إذا كان الإيداع بأجرة فهلكت أو ضاعت بسبب يمكن التحرز عنه لزم المستودع ضمانها."

( أحكام الوديعة، رقم المادة:٧٧٧، ٣٢٤/١، ط:مكتبه رشيديه)

تبیین الحقائق میں ہے :

"قال رحمه الله (‌ولا ‌يضمن ما تلف في يده أو بعمله) أما الأول فلأن العين أمانة في يده؛ لأنه قبضها بإذنه، وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله ظاهر، وكذا عندهما؛ لأن تضمين الأجير المشترك كان نوع استحسان عندهما صيانة لأموال الناس؛ لأنه يتقبل الأعمال من خلق كثير رغبة في كثرة الأجرة، وقد يعجز عن القيام بها فيقعد عنده طويلا فيجب عليه الضمان إذا هلكت بما يمكن التحرز عنه حتى لا يتوانى في حفظهما وأجير الوحد يعمل في بيت المستأجر ولا يتقبل الأعمال من غيره فأخذا فيه بالقياس."

(كتاب الاجارة،‌‌باب ضمان الأجير،١٣٨/٥،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100021
تاریخ20-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں