بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کے ملازم کا ٹینکر میں بچ جانے والے ڈیزل کو آگے فروخت کرنے کا حکم

سوال

 میں دبئی میں ایک کمپنی کے ساتھ ٹینکر چلاتا ہوں ،جس کے فی ٹریپ پر مجھے دس درہم ملتے ہیں، لیکن ٹینکر کو مقام پر پہنچانے اور خالی کرنے کے بعد 40 سے 50 لیٹر تک ڈیزل باقی بچ  جاتا ہے، کمپنی کی طرف سے اس حوالہ سے اجازت و عدم اجازت کی کوئی صراحت نہیں، تو کیا شرعاً میں اس باقی ماندہ ڈیزل کو اپنے لئے فروخت کرسکتا ہوں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بچے ہوئے ڈیزل کو   آگے فروخت کرنے کے لیے  کمپنی   کے مالکان سے اجازت لینا ضروری ہے ،بغیر اجازت کے اسےاپنے لیے فروخت کرنا جائز نہیں ۔

مسند احمد ميں هے:

"لا ‌يحل ‌مال امرئ إلا بطيب نفس منه."

(ج: 34،ص:299، رقم الحديث: 20695،ط :الرسالة)

فتاوی شامی میں ہے:

"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته إلا في مسائل مذكورة في الأشباه."

(کتاب الغصب ج نمبر 4 ص نمبر 200، ایچ ایم سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144412100007
تاریخ20-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں