بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انوشہ نام کا تلفظ ، معنیٰ اور یہ نام رکھنے کا حکم

سوال

میں اپنی بیٹی کا نام انوشہ (Anoosha) رکھنا چاہتا ہوں، مجھے اس نام کا معنیٰ بتادیں، اور یہ کہ یہ نام رکھنا صحیح ہے یا نہیں؟ اور یہ بھی بتادیں کہ اس لفظ کی انگریزی میں اسپیلنگ کیا ہوگی؟

جواب

"انوشہ" فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کا صحیح تلفظ "اُنُوشَہ" (الف اور نون کے پیش، واو کے سکون، شین کے زبر اور ہاء کے جزم کے ساتھ) ہے، اور اس کے معنیٰ ہیں خوشحال، خرم، نوجوان بادشاہ، بے زوال و جاودانی حیثیت رکھنے والا۔

اس لفظ کے لغوی معنیٰ کے اعتبار سے یہ نام لڑکے کے لیے رکھنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، تاہم اگر یہ لڑکی کا نام بھی رکھ لیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں، اور اس لفظ کا انگریزی تلفظ  "unusha" ہوگا۔

غیاث اللغات میں ہے:

"انوشہ: بضمتین  و واو مجہول وشین معجمہ بمعنی خُرّم وخوشحال وپادشاہِ نوجوان، ومجازاً بمعنی داماد"

(باب الالف المقصورہ، فصل الف مقصورہ مع نون، صفحہ نمبر ٨٠، ط: قدیمی کتب خانہ)

حسن اللغات (فارسی - اردو)  میں ہے:

"اُنوشہ: (ف) دولہا - داماد (٢) نوجوان بادشاہ (٣) خوشحال"

(باب الف مقصورہ، ا-ن، صفحہ نمبر: ٧٣، ط: اورینٹل بک سوسائیٹی، لاہور)

فیروز اللغات فارسی میں ہے:

"انُوشَہ:  جوان بادشاہ (2) خوش، (3) بے زوال، جاودانی حیثیت رکھنے والا"

(ا ن و، صفحہ نمبر: ٨٣، ط: فیروز سنز)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102857
تاریخ19-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں